حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شہید استاد مرتضیٰ مطہری نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک دعا کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپؐ باوجود بلند ترین مقامِ بندگی پر فائز ہونے کے، اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے تھے کہ وہ ایک لمحے کے لیے بھی انہیں ان کے نفس کے حوالے نہ کرے اور اپنی عنایت و رحمت سے محروم نہ فرمائے۔ ام سلمہؓ نے جب یہ دعا سنی تو بے اختیار رونے لگیں۔
شہید استاد مطہری اپنی کتاب «سیرتِ نبوی» میں لکھتے ہیں کہ انسان میں معمولی سا غرور بھی پیدا ہو جائے تو ممکن ہے اللہ تعالیٰ اپنی عنایت اس سے ہٹا لے، تاکہ بندہ اپنی بے بسی کو سمجھ سکے۔ اسی لیے انسان کو ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرنی چاہیے:
«وَلا تَکِلْنِی إِلَی نَفْسِی طَرْفَةَ عَیْنٍ أَبَداً»
یعنی: اے اللہ! مجھے کبھی ایک پلک جھپکنے کے برابر بھی میرے نفس کے حوالے نہ کرنا۔
ام سلمہؓ بیان کرتی ہیں کہ ایک رات وہ بیدار ہوئیں تو دیکھا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بستر پر موجود نہیں ہیں۔ تلاش کرنے پر معلوم ہوا کہ آپؐ کمرے کے ایک کونے میں عبادت میں مشغول ہیں۔ ام سلمہؓ نے آپؐ کی دعا سنی، جس میں آپؐ عرض کر رہے تھے:
«إِلٰهِی لَا تُشْمِتْ بِی عَدُوِّی، وَلَا تَرُدَّنِی إِلَی کُلِّ سُوءٍ اسْتَنْقَذْتَنِی مِنْهُ... وَلا تَکِلْنِی إِلَی نَفْسِی طَرْفَةَ عَیْنٍ أَبَداً»
اے میرے معبود! میرے دشمنوں کو میرے حال پر خوش نہ ہونے دینا، مجھے ان برائیوں کی طرف واپس نہ لوٹانا جن سے تو نے مجھے نجات دی ہے، اور مجھے ایک لمحے کے لیے بھی میرے نفس کے حوالے نہ کرنا۔
یہ دعا سن کر ام سلمہؓ بے اختیار زار زار رونے لگیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا مکمل کرنے کے بعد پوچھا: ام سلمہ! تم کیوں رو رہی ہو؟
انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جب آپؐ خود اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتے ہیں کہ وہ آپؐ کو ایک پلک جھپکنے کے برابر بھی آپؐ کے نفس کے حوالے نہ کرے تو پھر ہمارا کیا حال ہوگا؟
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں تسلی دینے کے لیے یہ نہیں فرمایا کہ میں نے یہ دعا محض تمہیں تعلیم دینے کے لیے کی ہے، بلکہ فرمایا کہ حقیقت یہی ہے۔ میرے بھائی یونس علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے ایک لمحے کے لیے ان کے نفس کے حوالے کیا تو ان پر وہ مصیبت آئی جو آپ جانتی ہیں۔
اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان خواہ عبادت اور بندگی کے کتنے ہی بلند مقام پر پہنچ جائے، اسے ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کی مدد، رحمت اور عنایت کا محتاج رہنا چاہیے۔
ماخذ: شہید استاد مرتضیٰ مطہری، سیرتِ نبوی، ص ۱۳۵۔









آپ کا تبصرہ